About this programme
تین مہینوں میں تنخواہ دار طبقے سے 144 ارب روپے ود ہولڈنگ انکم ٹیکس آیا، ریٹیلرز اور ہول سیلرز سے تقریباً 18 ارب۔ ایسا کیوں؟
سپریم کورٹ کے وکیل اور ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کہتے ہیں کہ ریاست صرف اسے پکڑتی ہے جو لیمپ کی روشنی میں بیٹھا ہے: تنخواہ نظر آتی ہے، اس لیے آسان شکار ہے۔ پھر فاخر انور سفیر پوچھتے ہیں کہ اگر دکاندار ریٹرن فائل نہیں کرتا تو ٹیکس نہ دینے والے تاجروں کو "متھ" کیوں کہا جائے؟ جواب: تاجر بجلی کے بل میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ایڈوانس دیتا ہے، وہ فائلر نہیں مگر ٹیکس دیتا ہے، اور پھر یہ لاگت گاہک پر ڈال دیتا ہے۔ "اصل میں تاجر کا بجلی کا بل میں ادا کر رہا ہوں۔"
Why do salaried people in Pakistan pay more income tax than all shopkeepers combined? A Supreme Court tax lawyer answers, with a twist.
حقائق: • جولائی تا ستمبر 2026 (عارضی ڈیٹا): تنخواہ دار طبقہ 144 ارب روپے انکم ٹیکس؛ ریٹیلرز سے 11.3 ارب اور ہول سیلرز سے 6.2 ارب روپے ود ہولڈنگ ٹیکس (پرو پاکستانی اور ایکسپریس ٹریبیون، 7 اکتوبر 2026)۔
Sources and further reading
Sources mentioned in the programme will be listed after they have been checked and attributed.
Transcript
A transcript will be published only when an accurate version is available.
