Published

بینظیر بھٹو کے دو ادوار: کسان کو کیا ملا؟ | چوہدری محمد بلال

بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں عام لوگوں کی زندگی میں کیا بہتری آئی؟ فاخر انور سفیر کے اس سوال پر چوہدری محمد بلال کا جواب کسان اور فصلوں کی قیمتوں سے شروع ہوتا ہے۔

Date
10/14/2026

About this programme

بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں عام لوگوں کی زندگی میں کیا بہتری آئی؟ فاخر انور سفیر کے اس سوال پر چوہدری محمد بلال کا جواب کسان اور فصلوں کی قیمتوں سے شروع ہوتا ہے۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے 1988 اور 1993 کی حکومتوں میں اجناس کی قیمتیں بڑھائیں اور کسان خوشحال ہوا؛ ان کے بقول مسلم لیگ ن زراعت کو فروغ نہیں دیتی، اور پچھلے دو سالوں میں کسان سے گندم دو سے ڈھائی ہزار روپے میں خریدی گئی جو دو مہینے بعد چار ہزار سے اوپر چلی گئی۔ یہ ان کی رائے ہے۔

پس منظر: مسلم لیگ ن کی تیسری وفاقی حکومت جون 2013 میں بنی (گفتگو میں 2014 کہا گیا)۔ لیبر فورس سروے 2020-21 کے مطابق تقریباً 37 فیصد روزگار براہ راست زراعت میں ہے، جبکہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 61 فیصد آبادی دیہی ہے۔ 2025 میں کٹائی کے وقت کسانوں کو تقریباً 2,200 روپے فی من (40 کلو) ملے، اور ستمبر 2025 میں گندم 4,000 روپے فی من تک پہنچی (ڈان، پاکستان ٹوڈے)؛ پاکستان ٹوڈے نے اس اضافے کی ایک وجہ سیلاب بھی بتائی۔

مکمل گفتگو میں ذکر ہے کہ چوہدری محمد بلال کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

Sources and further reading

Editorial compilation in progress

Sources mentioned in the programme will be listed after they have been checked and attributed.

Transcript

A transcript will be published only when an accurate version is available.

Continue exploring